Tuesday, 30 October 2018

امام موسی کاظم ع اور ہارون رشید کی قبر نبوی ع پر حاضری ⚘

⚘امام موسی کاظم ع اور ہارون رشید کی قبر نبوی ع پر حاضری ⚘

ہارون رشید حج کے لئے آیا تو رسول اللہ ع کی قبر اطہر پر حاضر ہوا ، اس کے ساتھ امام موسی الکاظم ع بھی تھے ۔ ہارون رشید نے اپنے اردگرد موجود لوگوں پر فخر کرتے ہوئے عرض کیا : اے اللہ کے رسول اے چچا کے بیٹے آپ پر سلام تو امام موسی بن جعفر الکاظم ع نے قریب ہو کر عرض اے میرے باپ آپ پر سلام ، تو ہارون رشید کا چہرہ متغیر ہوگیا اور کہا : اے ابوالحسن ع ! یہ فخر کرنا حق اور بجا ہے ۔

سیراعلام النبلاء ۔ ج 2۔ ص 261 ۔ طبع بیروت

انتخاب و ترجمہ : سید حسنی الحلبی


حجاج بن یوسف کی شان میں غلو

حجاج بن یوسف کی شان میں غلو 

ملاحظہ فرمائیں : مصر کے ایک صاحب نے پی ایچ ڈی کا مقاملہ حجاج بن یوسف ظالم کی شان میں لکھا اور اس کو شائع بھی کیا ، حتی کہ اس کے سات ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔ اس کتاب میں حجاج ظالم کو رحمہ اللہ لکھا گیا اور اس کا دفاع کیا گیا ہے ۔ 

اس کے برعکس علامہ ذہبی حجاج بن یوسف کے متعلق لکھتے ہیں : 

حجاج بن یوسف ظالم جبار (اور) ناصبی خبیث تھا۔ 

سیر اعلام النبلاء ۔ ج 1 ۔ ص 1272 ۔ طبع بیروت 

سید حسنی الحلبی




Sunday, 28 October 2018

مولا علی ع کا اھل شام کے ساتھ جنگ کرنے پر موقف : علامہ ابن ابی عز الدمشقی کے قلم سے

مولا علی ع کا اھل شام کے ساتھ جنگ کرنے پر موقف : علامہ ابن ابی عز الدمشقی کے قلم سے 

علی ع برحق خلیفہ تھے وہ سمجھتے کہ ان کی اطاعت واجب ہے نیز ان کے خلاف بغاوت کو فرو ہونا چاہیئے اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہونا چاہیئے جب انتشار ختم نہ ہوسکا تو انھوں نے اھل شام کے ساتھ لڑائی کا اعلان فرمایا جو ان اطاعت سے سرتابی کر رہے تھے اور مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر رہے تھے اب حالات کا رخ دیکھ کر وہ تالیف قلبی کی حکمت کے پیش نظر ایسے لوگوں سے کچھ مروت و ہمدردی کے قائل نہ تھے جس طرح کہ عہدی نبوی اور آپ کے بعد آنے والے خلفاء کے عہد خلافت میں تالیف قلبی کا رحجان غالب رہا اور مسلمانوں کی اجتماعیت کے خلاف بپا ہونے والی شورشوں کو نرمی کے ساتھ فرو کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ، حضرت علی ع نے حالات کا گہرے غورو فکر کے ساتھ جائزہ لیا اور اس نیتجے پر پہنچے کہ بغاوت کرنے والوں سے ہزگز نرمی کا برتائو نہ کیا جائے ، ان سے لڑائی کی جائے ، ان پر اسلامی حدود کا نفاذ کیا جائے ۔

شرح عقیدہ طحاویہ ۔ ص 734 ۔ طبع بیروت 

انتخاب و ترجمہ : سید حسنی الحلبی




Saturday, 20 October 2018

*** فضائل امام علی ع بیان کرنے میں ، امام اھل سنت امام نسائی رح کی شہادت ***



*** فضائل امام علی ع بیان کرنے میں ، امام اھل سنت امام نسائی رح کی شہادت  *** 

علماء کرام نے لکھا ہے کہ وزیر ابن حنزابہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام نسائی رح کے شاگرد محمد بن موسی ٰ المامونی سے سنا : انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک قوم کو ابوعبدالرحمان نسائی رح پر اعتراض کرتے ہوئے پایا کہ انہوں نے امام علی ع کے خصائص پر کتاب تو لکھ دی ہے اور شیخین کے فضائل ترک کر دئیے ہیں ۔ میں نے یہ اعتراض امام نسائی رح کو ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : دراصل بات یہ ہے کہ میں دمشق گیا ، تو وہاں کے لوگوں کو امام علی ع سے منحرف پایا ، اس لئے میں نے کتاب "خصائص علی " تصنیف کی ، تاکہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے انہیں ہدایت عطا فرمائے ۔ مامونی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد امام نسائی رح نے فضائل صحابہ پر کتاب لکھی اور لوگوں کو سنائی تو لوگوں نے کہا : آپ نے فضائل معاویہ کیوں نہین لکھے ؟ آپ نے فرمایا : میں کیا لکھتا ؟ یہی " اے اللہ ! معاویہ کا پیٹ نہ بھرنا ؟ اس پر معترض خاموش ہوگیا ۔ 

سیر اعلام النبلاء // ذہبی // ج 11 //ص 197

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : 

امام نسائی رح دمشق تشریف لے گئے تو اھل دمشق نے ان سے مطالبہ کیا کہ انہیں معاویہ کے فضائل میں کچھ احادیث پیش کریں ۔ اس پر امام نسائی رح نے فرمایا : " کیا معاویہ کو کافی نہیں کہ وہ برابر سرابر چلے جائیں چہ جائیکہ ان کے فضائل مروی ہوں " 

اس پر انہوں نے آپ کے خصیتین میں مارنا شروع کر دیا اور مارتے مارتے مسجد سے باھر نکال دیا ، آپ نے فرمایا : مجھے مکہ المکرمہ پہنچایا جائے ، چنانچہ اسی سال 303 ھجری میں آپ مقتولا شھید ہوئے 

امام حاکم رح نے خوب فرمایا تھا : امام نسائی رح دوسرے فضائل کے ساتھ ساتھ اپنی آخری عمر میں شہادت کی فضیلت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے ۔

البدایہ و النھایہ // ابن کثیر // ج 12 // ص 11

اللہ عزوجل ، امام نسائی رح کو اجر عطا فرمائے جو حب علی ع میں شھید ہوئے اور آج ان کی تصنیف "خصائص علی ع " دنیا میں مختلف زبانوں میں حب علی ع کی خوشبو کو پھیلا رہی ہے ۔ 

تحقیق : السید حسنی




رسول اللہ ع کی وصیت ، جس کو ہم نے بھلا دیا ۔

رسول اللہ ع کی وصیت ، جس کو ہم نے بھلا دیا ۔

حدیث غدیر اور حدیث ثقلین 

جس کا میں(رسول ) مولا ،اس کا علی مولا

امام علی (ع) سے روایت ہے کہ بے شک نبی (ص) (مقام ) خُم میں ایک درخت کے پاس آئے پھر آپ (ص) علی (ع) کا ہاتھ پکڑ کر باھر تشریف لے آئے ،فرمایا : کیا تم اس کی  گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالی ٰ تمھارا رب ہے ? لوگوں نے کہا: جی ہاں! گواہی دیتے ہیں .آپ (ص) نے فرمایا : کیا تم اس کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ اور اس کو رسول تمھار ے نفسوں پر اولیت رکھتے ہیں اور تم اللہ اور اس کے رسول کو اپنے اولیاء سمجھتے ہو? تو لوگوں نے کہا: جی ہاں ! آپ  (ص) نے فرمایا : پس جس کا اللہ اور اس کا رسول مولا ہیں تو یہ (علی بھی) اس کے مولیٰ ہیں ،اور میں تمھارے درمیان وہ (چیز) چھوڑ کر جارہا ہوں ، اگر تم نے اسے پکڑا تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ تعالی ٰکی کتاب ،جس کا ایک سرا اُس کے ہاتھ میں ہے اور ایک سرا تمھارے ہاتھوں میں ہے ، اور (دوسرے) میرے اھل بیت

(المطالب العالیہ ، ج 16،ص 142،حدیث:3943)

(مشکل الاآثار، ج 5 ، ص 13،حدیث:1760)

ابن حجر نے المطالب العالیہ میں حدیث غدیر کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں

المطالب العالیہ کے محقق نے روایت کی سند کو حسن درجہ کی قرار دیا ہے ۔ 

مشکل الاآثار کے  محقق شعیب الارنوووط  نے  حاشیہ میں اس حدیث کی سند کو حسن قرار دیا ہے

اھل حدیث کے عالم حافظ زبیر علی زئی نے اس حدیث کی سند کو حسن لذاتہ قرار دیا ہے 

(ماھنامہ الحدیث : شمارہ اپریل 2010)

کتبہ : سید حسنی الحلبی 
3 صفر 1440 ھجری یوم الجمعہ 
حرم مدنی ۔ مسجد نبوی شریف




🔴حدیث سیدنا عمار رض اور علامہ ابن تیمیہ کی تصریح 🔴



🔴حدیث سیدنا عمار رض اور علامہ ابن تیمیہ کی تصریح 🔴

علامہ تقی الدین احمد بن تیمیہ الحنبلی حدیث تقتل عماراً الفئة الباغية نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

اور یہ حدیث بھی حضرت علی ع کی امامت کی صحت پر اور آپ کی اطاعت کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے اور بیشک آپ کی طرف بلانے والا جنت کی طرف بلانے والا تھا اور آپ کے خلاف جنگ کی طرف بلانے والا آگ کی طرف بلانے والا تھا ،اگرچہ وہ تاویل سے کام لے رہا تھا اور یہ حدیث دلیل ہے کہ حضرت علی ع کو جنگ کرنا جائز نہیں تھا اسی بنا پر آپ کے خلاف جنگ کرنے والا خطا کار ٹھرا ، اگرچہ وہ تاویل کرنے والا تھا یا بلا تاویل باغی تھا ، اور یہ دوسرا قول ہمارے اصحاب حنابلہ کے نزدیک صحیح ترین قول ہے ، یعنی حضرت علی ع کے خلاف جنگ کرنے والے کو خطا کار قرار دینے کا حکم ، اور یہی آئمہ فقہاء کا مذہب ہے ۔ انہوں نے اسی تاویل کرنے والے باغیوں کے خلاف جنگ کی بنیاد رکھی ہے ۔ 

لیکن امام یحیی بن معین نے مولا علی ع کی سیرت سے تاویلی باغیوں کے خلاف جنگ کی دلیل لینے پر امام شافعی پر اعتراض کیا اور کہا : کیا حضرت طلحہ اور زبیر کو باغی قرار دیا جائیگا ؟ امام احمد نے ان کی تردید میں ارشاد فرمایا : تم پر افسوس ہے بھلا اور کونسی چیز ہے جس کی یہاں گنجائش ہو ؟ یعنی اگر امام شافعی حضرت علی ع کی سیرت کی پیروی نہ کرتے تو ان کے پاس خلفاء راشدین میں سے کوئی اور نمونہ نہیں تھا۔ 

مجموعہ الفتاوی ۔ ج 1 ۔ ص 730 ۔ طبع مصر 

پیش کش : 

📚مكتبة الامام سيدنا حسن المثنى ( ع)📗

✏اشراف : سید حسنی الحلبی




🔹️مروان کا امام زین العابدین ع سے مکالمہ 🔹️

مروان بن حکم نے امام زین العابدین [ع]سے کہا کہ پوری قوم میں ھمارے ساتھی ( عثمان ) کا دفاع کرنیوالا تمہارے ساتھی (علی) سے زیادہ کوئی نہی تھا امام نے فرمایا کہ تم لوگ پھر کیوں بر سر منبر علی [ع] پر سب کرتے ہو؟ مروان نے کہا کہ اس [سب] کے بغیر حکومت قائم نہی رہ سکتی۔

حکم سند : اس روایت کو ابن ابی خیثمہ نے قوی سند کیساتھ روایت کیا ھے ۔

سیر اعلام النبلاء//جلد1//صفحہ569