Saturday, 9 March 2019

ابن زبیر کا سیدنا محمد بن حنفیہ ع کو قید کرنا


ابن حجر عسقلانی ، ثقہ راوی تابعی ابوعبداللہ الجدلی پر تشیع اور مختار کے لشکر میں شمولیت کے الزام کی جرح پر تبصرہ کرتے ہوئے تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں : 

ابن زبیر نے سیدنا محمد بن حنفیہ کو اپنی بیعت کی دعوت دی تو انہوں نے انکار کر دیا ، اس پر ابن زبیر نے انہیں محصور کر دیا اور ان کے ساتھیوں کو خوف زدہ کیا ، یہ خبر مختار کو پہنچی جو اس وقت کوفہ کا سربراہ تھا تو اس نے مکہ المکرمہ کی طرف حضرت ابو عبداللہ الجدلی رح کی سرپرستی میں ایک لشکر بھیجا ، اس لشکر نے حضرت محمد بن حنفیہ ع کو قید سے نکالا ۔ سیدنا محمد بن حنفیہ رض نے لشکر کو حرم شریف میں قتال سے منع فرمایا ۔ پس اس وجہ سے علماء اسماء الرجال نے ابو عبداللہ الجدلی کو اور سیدنا ابو الطفیل رض (عامر بن واثلہ صحابی ) کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا کہ یہ اس لشکر میں شامل تھے ، حالانکہ یہ شمولیت ان دونوں پر اعتراض کا سبب نہیں ہوسکتی ۔ ان شاء اللہ تعالی ۔ 

سید حسنی الحلبی

Monday, 7 January 2019

🔹️مروان ، گستاخ رسول اللہ ع ،امام علی ع ، سیدہ فاطمہ ع، حسنین کریمین ع 🔹️


ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ ایک روایت ایسی ہے کہ جس کے راوی ثقہ ہیں ۔
روایت ہے کہ مروان جب مدینہ منورہ کا حاکم بنا تو ہر جمعہ کو منبر پر مولا علی ع کو گالیاں نکالنے لگا ، اس کے بعد سعید بن عاص مدینہ کا گورنر بنا تو وہ گالیاں نہیں نکالتے تھے پھر مروان گورنر ہوا تو پھر سے مولا علی ع پر سب و شتم کرنے لگا ۔ امام حسن ع اس کو جانتے تھے اور خاموشی اختیار فرماتے تھے اور مسجد میں اقامت کے دوران تشریف لاتے تھے ۔ لیکن مروان امام حسن ع کی اس بردباری پر بھی رضامند نہ ہوا اور امام حسن ع کے گھر میں آپ کو اور آپ کی والدہ سیدہ فاطمہ ع کو برا بھلا سب و شتم کہلوا بھیجا ۔ ان بکواسات میں ایک بکواس یہ بھی تھی کہ تمھاری مثال خچر کی طرح ہے کہ اسے کہو تیرا باپ کون ہے تو کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے ۔ ( معاذ اللہ )

امام حسن ع نے قاصد سے فرمایا کہ تم واپس چلے جائو اور مروان سے کہو کہ ہم تمھیں گالیاں دے کر جو کچھ تم نے کہا ہے اس کو مٹانا نہیں چاہتے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ تمھارا اور ہمارا قیام رب کے ہاں ضرور ہوگا اگر تم جھوٹے نکلے تو اللہ سخت بدلہ لینے والا ہے ۔ بے شک مروان نے میرے جد امجد محمد رسول اللہ ع کی بڑی تعظیم کی کہ میری مثال خچر کی طرح بیان کرتا ہے ۔
قاصد جب وہاں سے جانے لگا تو امام حسین ع ملے اور بہت ڈرانے دھمکانے پر مروان کی بکواس اس نے ان کو سنائی ۔ امام حسین ع نے فرمایا :
مروان سے کہنا کہ تو بھی اپنے باپ اور قوم کی خبر لے اور میرے اور تمھارے درمیان نشانی ہے یہ ہے کہ رسول اللہ ع کی لعنت تمھارے 
دونوں شانوں کے مابین میں بن گئی ہے ۔

تطھیر الجنان ۔ ابن حجر مکی ۔ ص 180

🔹️یہ روایت سند حسن کے ساتھ المطالب العالیہ 4457 میں بھی موجود ہے ۔ 🔹️

انتخاب و ترجمہ : سید حسنی الحلبی




Tuesday, 30 October 2018

امام موسی کاظم ع اور ہارون رشید کی قبر نبوی ع پر حاضری ⚘

⚘امام موسی کاظم ع اور ہارون رشید کی قبر نبوی ع پر حاضری ⚘

ہارون رشید حج کے لئے آیا تو رسول اللہ ع کی قبر اطہر پر حاضر ہوا ، اس کے ساتھ امام موسی الکاظم ع بھی تھے ۔ ہارون رشید نے اپنے اردگرد موجود لوگوں پر فخر کرتے ہوئے عرض کیا : اے اللہ کے رسول اے چچا کے بیٹے آپ پر سلام تو امام موسی بن جعفر الکاظم ع نے قریب ہو کر عرض اے میرے باپ آپ پر سلام ، تو ہارون رشید کا چہرہ متغیر ہوگیا اور کہا : اے ابوالحسن ع ! یہ فخر کرنا حق اور بجا ہے ۔

سیراعلام النبلاء ۔ ج 2۔ ص 261 ۔ طبع بیروت

انتخاب و ترجمہ : سید حسنی الحلبی


حجاج بن یوسف کی شان میں غلو

حجاج بن یوسف کی شان میں غلو 

ملاحظہ فرمائیں : مصر کے ایک صاحب نے پی ایچ ڈی کا مقاملہ حجاج بن یوسف ظالم کی شان میں لکھا اور اس کو شائع بھی کیا ، حتی کہ اس کے سات ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔ اس کتاب میں حجاج ظالم کو رحمہ اللہ لکھا گیا اور اس کا دفاع کیا گیا ہے ۔ 

اس کے برعکس علامہ ذہبی حجاج بن یوسف کے متعلق لکھتے ہیں : 

حجاج بن یوسف ظالم جبار (اور) ناصبی خبیث تھا۔ 

سیر اعلام النبلاء ۔ ج 1 ۔ ص 1272 ۔ طبع بیروت 

سید حسنی الحلبی




Sunday, 28 October 2018

مولا علی ع کا اھل شام کے ساتھ جنگ کرنے پر موقف : علامہ ابن ابی عز الدمشقی کے قلم سے

مولا علی ع کا اھل شام کے ساتھ جنگ کرنے پر موقف : علامہ ابن ابی عز الدمشقی کے قلم سے 

علی ع برحق خلیفہ تھے وہ سمجھتے کہ ان کی اطاعت واجب ہے نیز ان کے خلاف بغاوت کو فرو ہونا چاہیئے اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہونا چاہیئے جب انتشار ختم نہ ہوسکا تو انھوں نے اھل شام کے ساتھ لڑائی کا اعلان فرمایا جو ان اطاعت سے سرتابی کر رہے تھے اور مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر رہے تھے اب حالات کا رخ دیکھ کر وہ تالیف قلبی کی حکمت کے پیش نظر ایسے لوگوں سے کچھ مروت و ہمدردی کے قائل نہ تھے جس طرح کہ عہدی نبوی اور آپ کے بعد آنے والے خلفاء کے عہد خلافت میں تالیف قلبی کا رحجان غالب رہا اور مسلمانوں کی اجتماعیت کے خلاف بپا ہونے والی شورشوں کو نرمی کے ساتھ فرو کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ، حضرت علی ع نے حالات کا گہرے غورو فکر کے ساتھ جائزہ لیا اور اس نیتجے پر پہنچے کہ بغاوت کرنے والوں سے ہزگز نرمی کا برتائو نہ کیا جائے ، ان سے لڑائی کی جائے ، ان پر اسلامی حدود کا نفاذ کیا جائے ۔

شرح عقیدہ طحاویہ ۔ ص 734 ۔ طبع بیروت 

انتخاب و ترجمہ : سید حسنی الحلبی




Saturday, 20 October 2018

*** فضائل امام علی ع بیان کرنے میں ، امام اھل سنت امام نسائی رح کی شہادت ***



*** فضائل امام علی ع بیان کرنے میں ، امام اھل سنت امام نسائی رح کی شہادت  *** 

علماء کرام نے لکھا ہے کہ وزیر ابن حنزابہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام نسائی رح کے شاگرد محمد بن موسی ٰ المامونی سے سنا : انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک قوم کو ابوعبدالرحمان نسائی رح پر اعتراض کرتے ہوئے پایا کہ انہوں نے امام علی ع کے خصائص پر کتاب تو لکھ دی ہے اور شیخین کے فضائل ترک کر دئیے ہیں ۔ میں نے یہ اعتراض امام نسائی رح کو ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : دراصل بات یہ ہے کہ میں دمشق گیا ، تو وہاں کے لوگوں کو امام علی ع سے منحرف پایا ، اس لئے میں نے کتاب "خصائص علی " تصنیف کی ، تاکہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے انہیں ہدایت عطا فرمائے ۔ مامونی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد امام نسائی رح نے فضائل صحابہ پر کتاب لکھی اور لوگوں کو سنائی تو لوگوں نے کہا : آپ نے فضائل معاویہ کیوں نہین لکھے ؟ آپ نے فرمایا : میں کیا لکھتا ؟ یہی " اے اللہ ! معاویہ کا پیٹ نہ بھرنا ؟ اس پر معترض خاموش ہوگیا ۔ 

سیر اعلام النبلاء // ذہبی // ج 11 //ص 197

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : 

امام نسائی رح دمشق تشریف لے گئے تو اھل دمشق نے ان سے مطالبہ کیا کہ انہیں معاویہ کے فضائل میں کچھ احادیث پیش کریں ۔ اس پر امام نسائی رح نے فرمایا : " کیا معاویہ کو کافی نہیں کہ وہ برابر سرابر چلے جائیں چہ جائیکہ ان کے فضائل مروی ہوں " 

اس پر انہوں نے آپ کے خصیتین میں مارنا شروع کر دیا اور مارتے مارتے مسجد سے باھر نکال دیا ، آپ نے فرمایا : مجھے مکہ المکرمہ پہنچایا جائے ، چنانچہ اسی سال 303 ھجری میں آپ مقتولا شھید ہوئے 

امام حاکم رح نے خوب فرمایا تھا : امام نسائی رح دوسرے فضائل کے ساتھ ساتھ اپنی آخری عمر میں شہادت کی فضیلت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے ۔

البدایہ و النھایہ // ابن کثیر // ج 12 // ص 11

اللہ عزوجل ، امام نسائی رح کو اجر عطا فرمائے جو حب علی ع میں شھید ہوئے اور آج ان کی تصنیف "خصائص علی ع " دنیا میں مختلف زبانوں میں حب علی ع کی خوشبو کو پھیلا رہی ہے ۔ 

تحقیق : السید حسنی